تازہ حالات پر دردِ دل
علامہ سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی
گھر کی جو بات تھی، گھر میں ہی بنائ نہ گئ
رنجشیں بڑھ گئیں ، آپس کی جدائی نہ گئ
گلشنِ اہلسنن پر ہیں خزاں کے حملے
ہم سے دیوار حفاظت کی اٹھائ نہ گئ
کس کو کیا کہیے ، یہاں بات ہے سب اپنوں کی
پر یہ سچ ہے کہ رَواداری نبھائ نہ گئ
تھی شرارت کی ہَوا ، اور انا کا روغن
آگ پھیلائ گئ ، آگ بجھائ نہ گئ
کارِ تذلیل کو اصلاح بتانے والو
اِس طریقے سے کبھی کوئ برائ نہ گئ
رافضی، خارجی کرتے رہے ہم کو کمزور
متحد ہم نہ ہوئے ، بیچ کی کھائ نہ گئ
آیا جب قوم کی حالت کا فریدی کو خیال
اشک بہنے لگے ، بیچینی چُھپائ نہ گئ
از فریدی صدیقی مصباحی
مسقط عمان
0096899633908

0 Comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔