Pages

منگل، 21 جولائی، 2020

تازہ حالات پر دردِ دل






تازہ حالات پر دردِ دل


علامہ سلمان رضا فریدی صدیقی مصباحی


گھر کی جو بات تھی، گھر میں ہی بنائ نہ گئ
رنجشیں بڑھ گئیں ، آپس کی جدائی نہ گئ

گلشنِ اہلسنن پر ہیں خزاں کے حملے
ہم سے دیوار حفاظت کی اٹھائ نہ گئ

کس کو کیا کہیے ، یہاں بات ہے سب اپنوں کی
پر یہ سچ ہے کہ رَواداری نبھائ نہ گئ

تھی شرارت کی ہَوا ، اور انا کا روغن
آگ پھیلائ گئ ، آگ بجھائ نہ گئ

کارِ تذلیل کو اصلاح بتانے والو
اِس طریقے سے کبھی کوئ برائ نہ گئ

رافضی، خارجی کرتے رہے ہم کو کمزور
متحد ہم نہ ہوئے ، بیچ کی کھائ نہ گئ

آیا جب قوم کی حالت کا فریدی کو خیال
اشک بہنے لگے ، بیچینی چُھپائ نہ گئ

از فریدی صدیقی مصباحی
مسقط عمان
0096899633908
مکمل تحریر >>

شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات





محمد ابوذر غفاری چشتی مصباحی

 متعلم:  الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ (یو۔ پی)


شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات

            یہ ایک ناقابل انکار حقیقت ہے کہ آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ میں جابجا علما کی فضیلتیں بیان کی گئی ہیں اور امت مسلمہ کو ان کا ادب کرنے اور ان کے ساتھ تواضع سے پیش آنے کی تلقین کی گئی ہے۔ لیکن دور حاضر میں جس طریقے سے علما کی ناقدری اور ان کے ساتھ غیر منصفانہ سلوک کیا جارہا ہے وہ قابل تشویش ہے۔

حالیہ کچھ دنوں میں متعدد ایسی شخصیات میری نظر سے گزریں، جنہوں نے اپنا خون جگر پلاکر مدارس اسلامیہ کو پروان چڑھایا تھا، اپنی بیس پچیس سالہ انتھک کوششوں سے چمنستانہاے علم و ادب میں رنگ برنگ پھول کھلائے تھے۔ لیکن کچھ مفاد پرست لوگوں نے ان چمنستانوں سے اصل باغبانوں کو ہٹا کر ایسے نااہلوں کو ان کا مالی بنا دیا جن سے ان چمنستانوں کی صحیح طور سے آبیاری نہ ہو سکی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان چمنستانہاے علم و ادب میں زوال کا سلسلہ شروع ہو گیا، کھلے ہوئے پھول مرجھانے لگے، شاخیں خشک ہونے لگیں، تنا کمزور ہونے لگا، پتے جھڑنے لگے، ہریالی ختم ہونے لگی، یہاں تک کہ وہ اجڑے ہوئے چمن بن کر رہ گئے۔ اسی طرح سے کتنے ایسے مدارس ہیں جو علوم اسلامیہ کے عظیم قلعے کہلاتے تھے، مگر جب ان کے مخلص علما کی خدمات فراموش کردی گئیں، چھوٹی چھوٹی باتوں پر گرفت کرکے انہیں نکالا گیا، حتیٰ کہ اساتذہ کا اپنے طلبہ سے خدمت لینے کو بھی جرم قرار دیا گیا اور جاہلوں کو ان کا ہم منصب بنایا گیا تو وہ قلعے زمیں بوس ہوگئے۔ پھر کیا ہوا؟ یہی کہ وہاں کا علمی ماحول ختم ہوگیا، اساتذہ کے اندر تدریس کا جذبہ نہ رہا، طلبہ کا ذوق مطالعہ ختم ہوگیا، "قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم "کی صدائیں بند ہوگئیں، اب وہ محض آسائش گاہ بن کر رہ گئے اور دارالعلم سے دارالجہالہ میں تبدیل ہوگئے۔

اسی طریقے سے مساجد کے حالات پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہوجائے گی کہ عصر حاضر میں ائمۂ مساجد کو کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور ان کے ساتھ کیسا نازیبا سلوک کیا جارہا ہے۔ لوگ بجاے ائمۂ کرام کی تعظیم و توقیر کے، انھیں تنقیدوں کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹا بچہ بھی ان پر انگلی اٹھاتا ہوا نظر آتا ہے، جاھل سے جاھل شخص بھی ان پر فتوی بازی کرتا ہوا دکھائی پڑتا ہے، ذلیل سے ذلیل تر انسان بھی ان پر زبان درازی کرنے سے باز نہیں آتا، الغرض ائمہ کی ہر ادا جرم قرار پاتی ہے، ان کی نگاہیں نیچی ہوں تو جرم، اونچی ہوں تو جرم، آگے نظر کریں تو مجرم، پیچھے مڑ کر دیکھیں تو مجرم۔  مگر افسوس صد افسوس کہ لوگ جتنی گہری نظر اماموں کے احوال پر رکھتے ہیں اگر اتنی ہی گہری نظر اپنے گھر کے بچوں پر رکھتے تو ان کے بچے اوصاف حمیدہ و اخلاق حسنہ کے پیکر بن جاتے۔ لیکن انھوں نے اپنی تمام تر توجہ ائمۂ کرام کی نکتہ چینی میں لگا دی اور ان کی تنقید و تنقیص کو اپنا مقصد اصلی بنالیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے بچے کسی قابل نہ بن سکے اور انھیں دربدر کی ٹھوکریں کھانی پڑیں۔

میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ لوگ بالکل بے حس ہو چکے ہیں؟ کیا ان کی عقلوں پر پردے پڑ گئے ہیں؟ کیا ان کا ضمیر ایسی حرکتوں پر انھیں ملامت نہیں کرتا؟ کیا ان کے دلوں سے غیرت ایمانی ختم ہو چکی ہے؟ کیا آئمہ کرام کے تئیں ان کے سینوں میں ادب و احترام کی بو تک باقی نہیں رہ گئی ہے؟ ارے وہ ہستی کہ جسے نماز جیسی اہم عبادت میں اپنا امام تسلیم کیا، وہ ہستی کہ ہر چھوٹے بڑے مسائل میں جس کی طرف رجوع کیا، وہ ہستی کہ جس نے بچوں کے سینوں میں اسلامی تعلیمات کا چراغ روشن کیا؟ وہ ہستی کہ جس نے مسجد کی تعمیر و ترقی کے لیے چلچلاتی دھوپ میں دور دراز مقامات کا دورہ کرکے رقوم اکٹھا کیے، وہ ہستی کہ جس کی ذمہ داری فقط امامت تھی، مگر لوگوں کی دل جوئی کی خاطر نکاح خوانی، میلاد خوانی، عقیقہ، تجہیز و تکفین، نماز جنازہ، نومولود بچے کے کانوں میں اذان و تکبیر جیسے دسیوں کام اپنے سر لے لیے، وہ ہستی کہ جس کی ضرورت مہد سے لے کر لحد تک ہر انسان کو ہے۔ مگر اس ہستی سے ذرا سی لغزش سرزد کیا ہوئی، مذکورہ سارے احسانات یکسر فراموش کر دیے گئے، چوں طرفہ مذمت شروع ہوگئی، طعن و تشنیع کا بازار گرم ہوگیا، زبانوں پر سب و شتم کے الفاظ جاری ہو گئے، دلوں کی بھڑاس نکالی جانے لگی۔ کئی ایسی مساجد جن کا شمار اہل سنت کے مراکز میں ہوا کرتا تھا، لیکن وہاں کے ائمۂ کرام کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا، جس کی وجہ سے دین کے ان عظیم سپاہیوں کو وہ مسجدیں چھوڑنی پڑیں اور ان کی جگہ دوسرے ائمہ کا تقرر ہوا، لیکن بات اس پر ختم نہیں ہوئی، ابھی چند دن گزرنے بھی نہ پائے تھے کہ انھیں بھی نکال دیا گیا، اس طرح سے اماموں کا تبادلہ ہوتا رہا، یہاں تک کہ مفت امامت کا لبادہ اوڑھ کر کچھ لوگ نمودار ہوئے اور اپنے باطل عقائد و نظریات کی خفیہ تبلیغ کر کےعقائد اہل سنت کے تئیں عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کردیے۔ نتیجتاً کچھ ہی دنوں میں وہاں کے باشندگان ان کے دام فریب میں آ کر اپنے ایمان سے ہاتھ دھو بیٹھے اور وہ مسجدیں ان بد عقیدوں کے قبضے میں چلی گئیں۔ العیاذ باللہ۔ بربادی کا یہ پہلا رخ تھا۔

اس کا دوسرا رخ یہ کہ آئے دن اماموں کی تبدیلی اور نا قدری سے نالاں ہو کر علما کے ایک بڑے طبقے نے خود کو منصب امامت سے جدا کر لیا۔ موقع پاکر چاپلوس قسم کے نام نہاد مولویوں نے ان جگہوں پر قبضہ جما لیا، جس کی بنا پر عقائد اہلسنت کی غلط تشہیر ہونے لگی، تقریروں میں من گھڑت واقعات بیان کیے جانے لگے، اپنے خیالات کے مطابق مسائل کے اختراع کا سلسلہ شروع ہو گیا، حق گوئی کا نام و نشان مٹ گیا، چند ٹکے کے یہ مولوی مالداروں کی غلامی میں آگئے الا ماشاء اللہ ۔ جس کے نتیجے میں ان مساجد سے دین و سنت کی اشاعت کماحقہٗ نہ ہو



سکی اور لوگ اسلامی تعلیمات سے عاری اور جذبۂ عمل سے خالی ہو کر رہ گئے۔

سچ فرمایا تھا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے:

إن الله لايقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد، ولكن يقبض العلم بقبض العلماء حتى إذا لم يبق عالم اتخذ الناس رؤوسا جهالا، فسئلوا فأفتوا بغير علم فضلوا و أضلوا.

ترجمہ: اللہ تعالی علم کو اس طرح قبض نہیں کرے گا کہ لوگوں کے سینوں سے جدا کرلے، بلکہ علم کا قبض کرنا علما کے قبض کرنے سے ہوگا، جب عالم باقی نہ رہیں گے جاہلوں کو لوگ سردار بنا لیں گے۔ وہ بغیر علم کے فتوی دیں گے، خود بھی گم راہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گم راہ کریں گے۔ (صحیح بخاری، کتاب العلم، ج:۱، ص:۵۴)

نیز آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:

"علما کی مثال یہ ہے جیسے آسمان میں ستارے، جن سے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستے کا پتا چلتا ہے۔ اور اگر ستارے مٹ جائیں تو راستہ چلنے والے بھٹک جائیں گے۔"(مسند امام احمد بن حنبل، ج:۴، ص:۳۱۴)

کاش! اگر منتظمین مدارس اور متولیان مساجد علما و ائمہ کی ناقدری نہ کرتے، ان کی خدمات یک لخت بھلا نہ دیتے اور ناقابل گرفت غلطیوں پر ان کا اخراج نہ کرتے تو آج مدارس اسلامیہ و مساجد دینیہ کی زبوں حالی دیکھنے کو نہ ملتی۔ اللہ تعالی ہم سب کو علما کا ادب اور ان کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


طالب دعا: محمد ابوذر غفاری چشتی مصباحی، متعلم:  الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ (یو۔ پی)

مکمل تحریر >>

پیر، 20 جولائی، 2020

مختصر سیرتِ ابن ہشام ____مطالعاتی میز پر





مختصر سیرتِ ابن ہشام ____مطالعاتی میز پر

تبصرہ نگار _✍️ وزیر احمد مصباحی (بانکا)
  ریسرچ اسکالر : _ جامعہ اشرفیہ مبارک پور
رابطہ نمبر : 6394421415 _______
 Wazirmisbahi87@gmail.com 

        جی ہاں! تاریخ و سوانح نویسی کا فن بہت ہی قدیم ہے. تاریخ عرب کا جائزہ لینے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس خاکدان گیتی پر جلوہ افروز ہونے سے قبل ریگستان عرب کے نشیب و فراز کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ریگستان عرب میں اُس وقت اگرچہ دور حاضر کی طرح قرطاس و قلم اور لکھنے لکھانے کا دور دورہ نہیں تھا، پر ہاں! اہل عرب زبردست قوت حافظہ کے مالک ہوا کرتے تھے. وہ لوگ اپنی ذہانت و فطانت کے بل بوتے جس چالاکی سے اپنے خانوادوں کے ساتھ ساتھ جانوروں تک کے انساب محفوظ کر لیا کرتے تھے، وہ اپنے آپ میں ایک سنہری مثال ہے.
       یہ بات تو بالکل مسلم ہے کہ زمانہ، ہمیشہ ایک طرح نہیں رہتا ہے. ہر آن حالات بدلتے رہتے ہیں. یہی وجہ ہے کہ زمانہ انقلاب کے دامن میں جوں جوں ترقی کرتا گیا ویسے ہی تذکرہ نویسی کا رنگ و آہنگ بھی تبدیل ہوتا چلا گیا. دورِ رسالت کی سنہری صبح و شام نے جب بھٹکے ہوئے آہوں کو صراط مستقیم کا پتہ دے کر علم و ہنر کی شاہراہوں سے جوڑ دیا تو یکا یک ہر طرف علم و ادب کا نور بٹنے لگا. نصیبے کی ارجمندیوں نے نہ جانے کتنے فیروز بختوں کو بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری کا شرفِ جمیل بخشا. اب کیا تھا... اب تک تو جہالت نے اپنے بال و پر بھی سمیٹنا شروع کر دیا تھا. لکھنے لکھانے کا عمل جو بہت پہلے سے جاری تھا، اب اس نے بالکل جوانی اختیار کر لی تھی اور انگنت افراد نے علم و ادب کی زلفِ برہم سنوارنے کے ساتھ تذکرہ نویسی کے خاطر بجا طور پہ اسے اپنانا بھی شروع کر دیا تھا۔
        کثیر اہل علم و بصیرت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ مبارکہ سے جڑی یادوں کو اپنی اپنی معلومات کی حد تک یکجا کی ہے. صحابہ کرام کی مقدس جماعتوں نے بھی اس فن میں خوب خوب دلچسپیاں دکھائی ہیں. قرونِ اولی کے مسلمانوں کے بعد سے ہی مختلف ادوار میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چاہنے والوں نے آپ کے اسوہ حسنہ کو زمان و مکان کے اعتبار سے مختلف گوشوں کے تناظر میں بیان کیا ہے اور یہ مبارک سلسلہ آج تک چلتا آ رہا ہے. اس ضمن میں جس کتاب کو اولیت کا شرف حاصل ہے، وہ آٹھویں صدی ہجری میں محمد ابن اسحاق تابعی کی تصنیف کردہ معرکۃ الآراء کتاب بنام "سیرتِ ابن اسحاق" ہے. سیرت و تاریخ کے باب میں اسے بڑی اہمیت حاصل ہے. ابن جریر طبری اور علامہ ابن خلدون جیسے باکمال تاریخ نویسوں نے بھی ابن اسحاق سے بکثرت روایت کی ہے. حتی کہ" سیرتِ ابن ہشام" بھی اسی کی ترقی یافتہ شکل و صورت ہے. سیرتِ ابن اسحاق، چونکہ اولین کتبِ سیرت میں سے ہے. اس لیے اس میں بہت سی ایسی باتیں بھی مندرج ہو گئی ہیں جو ان کے (ابن ہشام) اپنے خیال میں براہ راست سیرت النبی سے متعلق نہیں تھیں. اس لیے ابن ہشام نے غیر ضروری اشعار اور حضرت آدم علیہ السلام سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاک تک کے حالات وغیرہ نکالنے کے ساتھ ساتھ کتاب المغازی کی انتہائی جامعیت کے ساتھ کچھ صفحات میں تلخیص بھی کر دی ہے. یہی وہ کارنامہ ہے جس نے سیرتِ ابن ہشام کو اہل علم کے درمیان سیرتِ ابن اسحاق سے کہیں زیادہ جامعیت و معنویت فراہم کیا اور دیکھتے ہی لوگوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لے لیا. جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اصل کتاب فراموش ہو کر رہ گئی. یہی وجہ ہے کہ سیرتِ ابن ہشام کی ایک سے ایک اہل کمال نے شرحیں بھی کی ہیں.
     اوہ، گھبرائیں نہیں!!! آئندہ سطور میں ہم جس کتاب کے ذکرِ جمیل سے آپ کے مطالعاتی میز کو سجانے جا رہے ہیں وہ مفتی انور نظامی مصباحی صاحب (ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ) کی کتاب "مختصر سیرتِ ابن ہشام" ہے. در اصل یہ کتاب "تہذیب سیرتِ ابن ہشام" کا اردو ترجمہ ہے،جسے ایک مصری عالم دین علامہ عبد السلام ہارون نے ترتیب دیا ہے. ہاں! یہ کتاب بھی "سیرتِ ابن ہشام" کی عربی تلخیص ہے. جس پر قارئین کی آسانی کے لیے عبد السلام ہارون نے اپنی محنت کے توسط اہمیت و افادیت کا غازہ مل دیا ہے. "تہذیب سیرتِ ابن ہشام "کے وجود میں آنے کی قوی وجہ "سیرتِ ابن ہشام" میں ذہن کو مضمحل کر دینے والی پیچیدگیاں ہیں. جیسا کہ اس حقیقت کا اندازہ مولف موصوف (عبد السلام ہارون) کے اس اقتباس سے بخوبی لگا سکتے ہیں. لکھتے ہیں :
         "ایامِ نوجوانوی میں میں نے بارہا اس جلیل الشان کتاب کا اول تا آخر مطالعہ کرنے کا ارداہ کیا، مگر اس تالیف میں ذہن کو تھکا دینے والی بےترتیبی اور دل کو اکتا دینے والے حشو و زوائد میرے مقصد میں آڑے آتے رہے. یہاں وہاں سے کچھ ایسے حصے پڑھ کر اکتفا کرنا پڑا، جو بے آب و گیاہ صحرا میں سر سبز و شاداب چمن کی مانند معلوم ہوئے "۔ [سیرت النبی، ص: ٤٣]
      سیرتِ ابن ہشام کی اس تلخیص کے باوجود ابھی بھی اردو داں طبقہ کے لیے یہ کتاب زیادہ مفید نہیں تھی. بر صغیر ہندو پاک میں چونکہ اردو بولنے پڑھنے والوں کی تعداد تقریباً ٩٠٪ ہے. اس لیے بڑی شدت کے ساتھ اس امر کی ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ کسی طرح اس تلخیص (تہذیب سیرت ابن ہشام) کو کوئی صلاحیت مند انسان اردو قالب میں ڈھال دے. حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت و صورت پاک سے جڑی ہر ہر ادا چونکہ "کان خلقہ القرآن" کی سچی پکی ترجمان ہیں. اس لیے اس جہت سے بھی معاشرے میں در آئی بگاڑ اور سنت نبوی سے انحراف کی باد سموم پر کاری ضرب کے لیے اس کی حاجت سمجھ میں آ رہی تھی.
       بھلا ہو استاذ محترم، خیر الاذکیا علامہ محمد احمد مصباحی صاحب قبلہ کا کہ جب آپ کی نظر سے" تہذیب سیرت ابن ہشام" گزری تو آپ نے متذکرہ بالا ضرورت کو بھانپ لیا اور اسے اردو جامہ پہنانے کے لیے اگست ١٩٨٩ء میں اپنے ایک لائق فائق شاگرد رشید، علامہ مفتی محمد انور نظامی مصباحی کو، جن کی دستارِ فضیلت اسی سال ٣٠،دسمبر کو عرس عزیزی کے پربہار موقع پر ہونی تھی، منتخب فرما لیا. جی ہاں! کسی استاذ کا اپنے کسی شاگرد کو اس طرح کے گراں قدر کام کے لیے منتخب فرما لینا، اس حقیقت کی بخوبی غمازی کرتی ہے کہ مفتی موصوف طالبِ علمی ہی کے دور سے اپنے ہم درسوں کے مابین امتیازی مقام رکھتے تھے. اچھی صلاحیت و لیاقت کے مالک تھے، جس پہ استاذ محترم کو کامل بھروسہ بھی تھا. اب کیا تھا ___مفتی موصوف صاحب قبلہ نے استاذ محترم کے رہنما خطوط کے سانچے میں اللہ و رسول کا نام لے کر قرطاس و قلم سنبھالا اور اس عظیم کام کے لیے میدان عمل میں اتر گیے.
        جی ہاں! آپ کو یہ بات ضرور یاد رکھنی چاہیے کہ ترجمہ نگاری بولنے کی طرح بالکل آسان نہیں ہے،بلکہ اس کے لیے بھرپور لیاقت و صلاحیت کے ساتھ باریک بینی کی بھی سخت ضرورت پڑتی ہے تا کہ مترجم دونوں زبانوں کے نشیب و فراز سے بوقت حاجت پردہ اٹھا سکے. ترجمہ نگاری کے حوالے سے شارح بخاری، مفتی شریف الحق امجدی علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں : " یہ کتنا مشکل کام ہے اس کا اندازہ وہی شخص لگا سکتا ہے جس نے کبھی یہ کام کیا ہو. بعض حیثیتوں سے ترجمہ تصنیف سے زیادہ مشکل ہوتا ہے، تصنیف میں مصنف اپنے خیالات کو اپنے طرز پہ ڈھالتا جاتا ہے مگر کسی دوسرے کی کتاب میں مترجم اسی کے طرزِ بیان اور طرزِ نگارش کا پابند ہوتا ہے "۔[مقالاتِ شارح بخاری ]
         زیر تبصرہ کتاب مفتی موصوف صاحب قبلہ کا وہ کارنامہ ہے جس نے کئ سالوں کی سعی جمیل کا دانہ پانی کھایا ہے. آج بہت سی کتابوں کا لوگ ترجمہ کرتے ہیں، جو رسالہ کی حیثیت رکھتے ہیں اور وہ ضخیم کتابیں دیکھ کر جی چرانے لگ جاتے ہیں. محض یہ سوچ کر کہ اس میں کئی سالوں کی محنت درکار ہے. مگر آپ کو حیرت ہوگی کہ مفتی موصوف صاحب نے کتاب ہذا کو مکمل رنگ و آہنگ سے سدا بہار بنانے میں دو سال تک کا وقتِ وافر عطا کرنے کے ساتھ جب ١٤٢٨ھ میں ڈیڑھ عشرہ کی مدت مدید گزر جانے کے بعد اس کی اشاعت کا ارداہ ہوا تو آپ نے نظرِ ثانی کر کے سولہ سال کے طویل فاصلے کو ترجمے میں کم کر کے عرق ریزی و صبر و تحمل کا حسین سنگم پیش فرمایا ہے. آغازِ سخن کے نام سے مفتی موصوف صاحب نے جو باتیں تحریر کی ہیں، اس سے اندازہ لگتا ہے کہ ترجمہ نگاری کے بابت عربی نسخہ (تہذیب سیرتِ ابن ہشام) ہمیشہ آپ کے ساتھ رہی اور جس وقت بھی آپ کو فرصت میسر آیا اسے جستہ جستہ اردو کا جامہ پہناتے رہے. کتاب ہذا کے صفحہ ٦،پر آپ اپنی داستانِ ترجمہ نگاری کچھ یوں رقم فرماتے ہیں :" حضرت مصباحی صاحب قبلہ کی رہنمائی ہوتی رہی. کام ابھی تک مکمل نہیں ہو پایا تھا کہ شعبان میں تعطیل کا وقت آ گیا اور نہ چاہتے ہوئے بھی تعلیمی سلسلہ منقطع کرکے گھر آنا پڑا. تدریس کے سلسلے میں" الجامعۃ الرضویہ "پٹنہ میں تقریباً چار ماہ گزارے پھر عرس رضوی کے موقع سے"دارالعلوم گلشن بغداد" ہزاری باغ آ گیا. اس دوران ترجمہ کا کام بھی تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ گھر، پٹنہ اور پھر ہزاری باغ منتقل ہوتا رہا، آخر کار ہزاری باغ میں ١٨،ذوالحجہ ١٤١١ھ /بروز جمعۃ المبارکہ یہ کام مکمل ہو گیا.
       ہاں! زیرِ تبصرہ کتاب کی اہمیت اس جہت سے بھی دوبالا ہو جاتی ہے کہ اس میں جغرافیائی مقامات کی تفصیل پر مشتمل علامہ عاتق بن غیث البلادی کی کتاب " المعالم الجغرافیہ فی السیرۃ النبویۃ" کے ترجمہ (مترجم : مولانا افتخار احمد قادری و مولانا اسرار الحق بھاگلپوری) کے مطابق، جو ابجد کی ترتیب پر تھا، سیرت میں آنے والے مقامات کے ساتھ حاشیہ میں مندرج ہے اور آخر کتاب میں قارئین کی آسانی کے لیے اس کی ایک فہرست حروف تہجی کے اعتبار سے بھی شامل اشاعت کر دی گئی ہے. پڑھنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب ترجمہ نہیں ہے بلکہ "تہذیب سیرتِ ابن ہشام" کی اس میں تو ترجمانی کی گئی ہے. ترجمہ اس طرح آسان لب و لہجہ میں مرقوم ہے کہ اول تا آخر سلاست و روانی کا گہرا رنگ قائم ہے. ساتھ ہی اردو قواعد و ضوابط اور رائج علاماتِ وقف پر بھرپور توجہ دی گئی ہے. مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں ترجمہ کے حوالے سے وہ دستور اساسی آپ کی خدمت میں پیش کر دی جائے جس پہ ترجمہ نگاری کی محل تعمیر کی گئی ہے :
     [١] ترجمہ بامحاورہ اور سلیس ہو اور قاری کو اس کا احساس کم ہو کہ ترجمہ کا مطالعہ کر رہا ہے.
     [٢] احادیث مبارکہ کی اصل عربی عبارت بھی ترجمے کے ساتھ نقل کر دی گئی ہے تا کہ اصل الفاظِ رسول سے استفادہ ہو سکے.
     [٣] واقعات کے لحاظ سے کتاب کو ابواب میں منقسم کر دیا گیا ہے تا کہ جدید طرزِ تحریر کا لطف بھی ملے. 
     [٤] قرآنی آیات کا ترجمہ عالمی شہرت یافتہ معتبر ترجمہ "کنزل الایمان" سے نقل کیا گیا ہے، تاکہ ترجمے میں کہیں کوئی سقم نہ آنے پائے. 
     [٥] جغرافیہ سے متعلق تفصیلات کو حاشیہ میں اس جگہ رقم کیا گیا ہے جہاں وہ مقام پہلی بار آیا ہے، بعد میں حاشیہ میں اس کا اعادہ نہیں کیا گیا ہے. جغرافیہ کی ایک فہرست آخر میں دے دی گئی ہے تا کہ وقتِ ضرورت اسے دیکھا اور سمجھا جا سکے. 
     [٦] کہیں کہیں حاشیے میں واقعات سیرت یا دیگر امور کی مختصر وضاحت کر دی گئی ہے، جو وضاحت راقم نے کی ہے، وہاں اس کی نشان دہی بھی کر دی گئی ہے. 
     
         کتاب ہذا میں استاذ محترم مولانا عرفان عالم مصباحی (استاذ :جامعہ اشرفیہ مبارک پور) کا ایک گراں قدر مقدمہ بھی شامل اشاعت کیا گیا ہے، جو تقریباً ١٣،صفحات پر مشتمل ہے. اس کے علاوہ محدث جلیل حضرت علامہ عبدالشکورمصباحی صاحب قبلہ کی طرف سے "کلمات تبریک" اور خیر الاذکیا علامہ محمد احمد مصباحی صاحب قبلہ کی طرف سے "کلمات تکریم" سے موسوم قدرے قیمتی اور مفید و ناصحانہ باتیں بھی مندرج ہیں. اگر مقدمہ کی بات کریں تو میرے اپنے خیال میں اسے "معلوماتی" کہنے میں کوئی قباحت نہیں ہے. تمہیدی کلمات کے بعد جس حسنِ جامعیت کے ساتھ سیرت نگاری کے چھ ادوار کا جائزہ لیا گیا ہے وہ پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے. پھر لگے ہاتھوں مترجم موصوف کی زندگی سے جڑی تمام مصروفیات کا ایک خاکہ بھی پیش فرما دیا ہے. مجھے [راقم الحروف ] اپنی اس ٢١، ٢٢ سالہ زندگی میں مترجم موصوف سے توکبھی شرف ملاقات حاصل نہیں. پر ہاں! کتاب ہذا کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت کی ذات گونا گوں کمالات و خصوصیات کی جامع ہے. ایک طرف اگر آپ ماہر مفتی ہیں تو وہیں دوسری طرف کہنہ مشق مدرس اور درجنوں کتابوں کے مصنف بھی. سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ آپ اپنے سینے میں ایک دھڑکتا ہوا دل رکھتے ہیں. (اللہ کریم موصوف کو لمبی عمر کے ساتھ بہترین صلہ عطا فرمائے،آمین) 
         مجموعی طور پر زیرِ تبصرہ کتاب تقریباً ٥٩٠/صفحات پر مشتمل ہے. اس میں کئی ایک باب شامل ہیں. اس میں کچھ باتیں عبد السلام ہارون (مصری) کی طرف سے بھی بنام "تقدیم" شامل ہیں. اس میں انھوں نے چند سرخیاں، جیسے : تاریخ و سیرت، مولفین سیرت ،سیرت ابن اسحاق، سیرتِ ابن ہشام، سیرتِ ابن ہشام کا مقام اور تہذیب سیرتِ ابن ہشام کے تحت قیمتی باتیں مندرج ہیں. اصل کتاب ص: ٤٦،سے شروع ہوتی ہے اور ظہورِ قدسی کے نام سے "باب : ١" قائم کیا گیا ہے، جو ص:٩٤،تک محیط ہے. اس میں آپ صل اللہ علیہ وسلم کا نسب شریف، ربیعہ بن نضر کا خواب، اریاط و ابرہہ کی جنگ، یمن پر حبشیوں کا تسلط، حلیمہ سعدیہ کا واقعہ اور کعبہ کی تعمیر کے حوالے سے مکمل تفصیلات مندرج ہیں۔ اس کے بعد ہی "بعثت" کے نام سے دوسرا باب شروع ہوتا ہے اور یہ ص: ١٨٥، تک محیط ہے. اس میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکی زندگی کی مکمل تفصیل ملتی ہے. آپ نے کس جہت سے اہل مکہ کے مابین دعوت و تبلیغ کا کام انجام دیا، مختلف بادشاہوں تک کیسے خطوط بھیجے اور اہل مکہ نے آپ اور آپ کے چاہنے والوں کے ساتھ کیسی بدسلوکیاں کی. ___پھر لگے ہاتھوں بغیر کسی فصل کے تیسرا باب بھی ہجرت کے نام سے شروع ہوا جاتا ہے، جو بمشکل ٣٥، ٣٦ / صفحات پر مشتمل ہے. اس باب میں آپ نے تقریباً دس سرخیاں قائم کی ہیں اور سب کے سب ہجرت سے ہی متعلق ہیں. جیسے : مہاجرین مدینہ کا تذکرہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت، مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کرنے کی اجازت اور مہاجرین و انصار میں عقدِ مواخاۃ وغیرہ ۔ 
     چوتھا باب غزوات و سرایا کے بیان پر مشتمل ہے. چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بیان میں غزوات و سرایا کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے، اس لیے ابتدائی دور میں بھی کتبِ سیرت کو عموماً مغازی و سیر کی کتابیں کہا جاتا تھا. اس باب میں آپ نے تقریباً ٣٥، ٣٦ غزوات و سرایا کا ذکرِ جمیل شاملِ اشاعت فرمایا ہے. میرے خیال سے اگر کوئی قاری ضرورت کے وقت کسی غزوہ کی تفصیل جاننا چاہے تو وہ اس طرف رجوع کرکے اپنی ضرورت کی تکمیل کے لیے سامان ضرور مہیا کر لے گا۔
     پانچویں باب میں وفود کا تذکرہ شامل ہے. آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ تک جتنے وفود آئے، اس پر اچھی خاصی روشنی ڈالی گئی ہے. جیسے : وفد ثقیف، وفد عبد القیس میں جارود کی آمد، وفد کندہ کی آمد، صرد بن عبد اللہ ازدی کی آمد اور عمر بن معدیکرب کی آمد وغیرہ. یہ باب ص: ٤٦٧ سے ٥١٣، تک محیط ہے. پھر لگے ہاتھوں سفر آخرت کے نام سے چھٹا باب بھی سامنے آ جاتا ہے. اس باب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری زندگی سے جڑی تمام یادیں ختم ہو جاتی ہیں، یعنی آپ ہمیشہ کے لیے مالک حقیقی سے جا ملتے ہیں. اس میں حجتہ الوداع کا ذکرِ جمیل بھی ہے، جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن آدم کو زندگی گزارنے کے لیے بہترین دستور اساسی عنایت فرمایا تھا. ساتھ ہی اس میں آپ کے مرض کی ابتدا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر میں آپ کی عیادت اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی امامت وغیرہ کا تذکرہ ملتا ہے۔
     ایک منفرد بات جو میں نے دیکھی وہ یہ ہے کہ کتاب کے ٹائٹل پیج پر بڑی ایمانداری کے ساتھ صاحب سیرتِ ابن ہشام اور تہذیب سیرتِ ابن ہشام کے نام بھی درج کر دیے گیے ہیں. ساتھ ہی اوپری حصہ پر ایک گوشے میں گنبد خضرا اور کعبہ مقدسہ کی تصویر بھی لگا دی گئی ہے، تا کہ ایک عام قاری بھی ٹائٹل پیج دیکھ کر یہ سمجھ لے کہ : نہیں!!! یہ کتاب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت پاک سے متعلق ہے. کمپوزنگ کی ذمہ داری ماسٹر مہتاب پیامی اور آپ کے فرزند ارجمند غلام ربانی مصباحی نے انجام دی ہیں. پروف ریڈنگ کا حسن فریضہ حضرت مولانا عرفان عالم مصباحی اور محمد احمد جامی مصباحی صاحبان نے نبھایا ہے. نشر و اشاعت کا اہم بار "دائرۃ القلم" کٹگھرا، سودن ہزاری باغ (جھارکھنڈ) نے برداشت کیا ہے اور جنوری ٢٠١٩ء میں ہی ١١٠٠، سو کی کثیر تعداد میں بموقع عرس عزیزی کتاب شائع کرکے قارئین کی آنکھوں کی ٹھنڈک کے خاطر بہترین سامان پیش کیا ہے. کتاب کے ابتدا ہی میں قارئین کی آسانی و سہولت کے مد نظر ص: ٢، پر کتاب حاصل کرنے کیے لیے تقریباً درجن بھر مکتبوں کے نام (جیسے : المجمع الاسلامی، ملت نگر، مبارک پور ،المجمع العلمی ہزاری باغ، حق اکیڈمی مبارک پور، رضوی کتاب گھر دہلی، فاروقیہ بک ڈپو دہلی، ادارہ شرعیہ رانچی جھارکھنڈ وغیرہ) مندرج ہیں، جب کہ فہرستِ کتب کتاب کے آخری حصہ میں موجود ہے۔

#نوٹ : مطالعہ کے شوقین حضرات کتاب حاصل کرنے کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں _👇

                   9934137121
                   7860231892

مکمل تحریر >>

اتوار، 19 جولائی، 2020

قربانی اور اس کے اہم مسائل



*🌹قربانی اور اس کے اہم مسائل*🌹

 ✍🏻 *محمد وقار احمد مصباحی* (گڈاوی) 
(رکن: مجلس علمائے جھارکھنڈ) 

{فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ: تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔} یعنی اے حبیب! (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو دونوں  جہاں  کی بے شمار بھلائیاں  عطا کی ہیں  اور آپ کو وہ خاص رتبہ عطا کیا ہے جو آپ کے علاوہ کسی اور کو عطا نہیں  کیا، تو آپ اپنے اس رب عَزَّوَجَلَّ کے لیے نماز پڑھتے رہیں  جس نے آپ  (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کو،کوثر عطا کر کے عزت و شرافت دی، تاکہ بتوں  کے پجاری ذلیل ہوں  اور بتوں  کے نام پر ذبح کرنے والوں  کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ  کے لیے اوراس کے نام پر قربانی کریں ۔اس آیت کی تفسیر میں  ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز سے نمازِ عید مراد ہے۔( مدارک، الکوثر، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۳۷۸، خازن، الکوثر، تحت الآیۃ: ۲، ۴ / ۴۱۶-۴۱۷، ملتقطاً)
قربانی قرب الٰہی کا ایک عظیم ذریعہ ہے جب بنیت تقرب کیا جائے. 
  آئے حدیث شریف کی روشنی میں بھی قربانی کی فضیلت ملاحظہ کریں. 
ابو داود، ترمذی و ابن ماجہ میں ام المومنین حضرت عائشہ  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: کہ’’ یوم النحر (دسویں  ذی الحجہ) میں  ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ پیارا نہیں  اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کھروں  کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک مقام قبول میں  پہنچ جاتا ہے.لہٰذا اس کو خوش دلی سے کرو
(جامع الترمذي‘‘،کتاب الأضاحی،باب ماجاء في فضل الأضحیۃ،الحدیث:۱۴۹۸،ج۳،ص۱۶۲)

ابن ماجہ نے حضرت زید بن ارقم  رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ صحابہ(رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم) نے عرض کی یارسول  اﷲ (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یہ قربانیاں  کیا ہیں  فرمایا:  کہ’’ تمھارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے‘‘ لوگوں  نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) ہمارے لیے اس میں  کیا ثواب ہے فرمایا:’’ ہر بال کے مقابل نیکی ہے.
(سنن ابن ماجہ باب ثواب الأضحیۃ، الحدیث:۳۱۲۷،ص۵۳۱۔)

 ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماسے مروی کہ حضور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا:’’ جو روپیہ عید کے دن قربانی میں  خرچ کیا گیا اس سے زیادہ کوئی روپیہ پیارا نہیں.
(المعجم الکبیر‘‘،الحدیث:۱۰۸۹۴،ج۱۱،ص۱۴۔۱۵۔
                     *مسائل*

*قربانی کن لوگوں پر واجب ہے؟*
   *مسئلہ* :  قربانی واجب ہونے کے شرائط یہ ہیں: اسلام یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں ، اقامت یعنی مقیم ہونا، مسافر پر واجب نہیں ، تونگری یعنی مالک نصاب ہونا یہاں  مالداری سے مراد وہی ہے جس سے صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں  جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، حریت یعنی آزاد ہونا جو آزاد نہ ہو اس پر قربانی واجب نہیں کہ غلام کے پاس مال ہی نہیں، لہٰذا عبادت مالیہ اس پر واجب نہیں ۔ مرد ہونا اس کے لیے شرط نہیں. عورتوں  پر واجب ہوتی ہے جس طرح مردوں  پر واجب ہوتی ہے اس کے لیے بلوغ شرط ہے یا نہیں  اس میں  اختلاف ہے اور نابالغ پر واجب ہے تو آیا خود اس کے مال سے قربانی کی جائے گی یا اس کا باپ اپنے مال سے قربانی کرے گا۔ ظاہرالروایۃ میں یہ ہے کہ نہ خود نابالغ پر واجب ہے اور نہ اس کی طرف سے اس کے باپ پر واجب ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔(’’الدرالمختار‘‘،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۴، بہار شریعت وغیرہ)
*مسئلہ:* جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دوسو درہم ہو وہ غنی ہے اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے ان کے سوا جو چیزیں  ہوں  وہ حاجت سے زائد ہیں ۔ (عالمگیری، بہار شریعت وغیرہ)
*مسئلہ:* عورت کامَہر شوہر کے ذمہ باقی ہے اور شوہر مالدار ہے تو اس مَہر کی وجہ سے عورت کو مالک نصاب نہیں  ماناجائے گا اگرچہ مَہر معجل ہو اور اگر عورت کے پاس اس کے سوا بقدر نصاب مال نہیں  ہے تو عورت پر قربانی واجب نہیں  ہوگی۔(عالمگیری، بہار شریعت)
*مسئلہ:* قربانی کی منت مانی اور یہ معین نہیں  کیا کہ گائے کی قربانی کرے گا یا بکری کی تو منت صحیح ہے بکری کی قربانی کر دینا کافی ہے اور اگر بکری کی قربانی کی منت مانی تو اونٹ یا گائے قربانی کر دینے سے بھی منت پوری ہو جائے گی. منت کی قربانی میں  سے کچھ نہ کھائے بلکہ سارا گوشت وغیرہ صدقہ کر دے اور کچھ کھا لیا تو جتنا کھایا اس کی قیمت صدقہ کرے۔(عالمگیری بہار شریعت)
*مسئلہ:*  قربانی کے جانور کی عمر یہ ہونی چاہیے اونٹ پانچ سال کا گائے دو سال کی بکری ایک سال کی اس سے عمر کم ہو تو قربانی جائز نہیں  زیادہ ہو تو جائز بلکہ افضل ہے۔ ہاں  دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ اگر اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں  سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ (درمختار، بہار شریعت)
 *مسئلہ:*  قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہیے اور تھوڑا سا عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ ہوگی اور زیادہ عیب ہو تو ہوگی ہی نہیں ۔ جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں  اس کی قربانی جائز ہے اور اگر سینگ تھے مگر ٹوٹ گیا اور مینگ تک(جڑ تک) ٹوٹا ہے تو ناجائز ہے اس سے کم ٹوٹا ہے تو جائز ہے۔ جس جانور میں  جنوں  ہے اگر اس حد کا ہے کہ وہ جانور چرتا بھی نہیں  ہے تو اس کی قربانی ناجائز ہے اور اس حد کا نہیں  ہے تو جائز ہے۔ خصی یعنی جس کے خصیے نکال لیے گئے ہیں  یا مجبوب یعنی جس کے خصیے اور عضو تناسل سب کاٹ لیے گئے ہوں  ان کی قربانی جائز ہے۔ اتنا بوڑھا کہ بچہ کے قابل نہ رہا یا داغا ہوا جانور یا جس کے دودھ نہ اترتا ہو ان سب کی قربانی جائز ہے۔ خارشتی جانور کی قربانی جائز ہے جبکہ فربہ ہو اور اتنا لاغر ہو کہ ہڈی میں  مغز نہ رہا تو قربانی جائز نہیں ۔(درمختار، ردالمحتار، عالمگیری، بہار شریعت )
*مسئلہ:*  قربانی کرتے وقت جانور اچھلا، کودا جس کی وجہ سے عیب پیدا ہوگیا یہ عیب مضر نہیں  یعنی قربانی ہو جائے گی اور اگر اچھلنے کودنے سے عیب پیدا ہوگیا اور وہ چھوٹ کر بھاگ گیا اور فوراً پکڑ کر لایا گیا اور ذبح کر دیا گیا جب بھی قربانی ہو جائے گی۔ (درمختار، ردالمحتار، بہار شریعت )
*مسئلہ:*  قربانی کے سب شرکا کی نیت تقَرُّب ہو اس کا یہ مطلب ہے کہ کسی کا ارادہ گوشت نہ ہو اور یہ ضروری نہیں  کہ وہ تقرب ایک ہی قسم کا ہو مثلاً سب قربانی ہی کرنا چاہتے ہیں  بلکہ اگر مختلف قسم کے تقرب ہوں  وہ تقرب سب پر واجب ہو یا کسی پر واجب ہو اور کسی پر واجب نہ ہو ہر صورت میں  قربانی جائز ہے مثلاًدَمِ اِحصار اور احرام میں  شکار کرنے کی جزا اور سر منڈانے کی وجہ سے دَم واجب ہوا ہو اورتمتع و قران  کادَم کہ ان سب کے ساتھ قربانی کی شرکت ہوسکتی ہے۔ اسی طرح قربانی اور عقیقہ کی بھی شرکت ہوسکتی ہے کہ عقیقہ بھی تقرب کی ایک صورت ہے۔ (ردالمحتار، بہار شریعت)
  *مسئلہ:*  قربانی اگر منت کی ہے تو اس کا گوشت نہ خود کھاسکتا ہے نہ اغنیا کو کھلا سکتا ہے بلکہ اس کو صدقہ کر دینا واجب ہے وہ منت ماننے والا فقیر ہو یا غنی دونوں  کا ایک ہی حکم ہے کہ خود نہیں  کھا سکتا ہے نہ غنی کو کھلا سکتا ہے۔(بہار شریعت)
مکمل تحریر >>

وزن سےجانورخریدنا بوجہ عرف جائز





وزن سےجانورخریدنا بوجہ عرف جائز

سوال کیا فرماتے ہیں علماءدین اس مسئلہ میں کہ
بکرا وزن سے خریدنا جائز ہے یا نہیں؟  اس کی قربانی کاکیا حکم ہے۔؟
ا___🔸💠🔸__
الجواب بعون الملک الوھاب؛
اس زمانے میں کچھ حیوانات  مثلا بکرا بکری مرغ وغیرہ  کے بیع کا عرف دو طرح کا ہے عدد یعنی گنتی سے  بغیر وزن کے۔اور وزن سےبھی ۔
اشیاء منصوصہ،جو کیلی ہیں وہ  ہمیشہ کیلی رہیں گی  اور جو وزنی ہیں  وہ ہمیشہ  وزنی اگر چہ عرف بدل جائے ۔
ان کے سوا میں عرف وعادت کا اعتبار  ہوگا ۔جو وزن سے بکتی ہیں  وہ وزنی ہوں گی ، جو ناپ کر وہ کیلی، جو گن کر  وہ عددی اور جن اشیاء کے بیع کا دو طریقے سے  رواج ہو وہ دونوں طریقوں سے جاءیز ہوں گی۔جیسے مٹھاءییاں گن کر بیچی جاتی ہیں اور تول کر بھی ۔کیلوں کا بھی یہی معاملہ ہے ۔
یہی وجہ ہے  کہ  حیوان کے سلسلے  ميں جہاں  وزنی ہونے کا ذکر ہے اس کی وجہ فقہاء کرام  نے  عرف وعادت قرار دیا ہے ۔ھدایہ میں  ہے :
ویجوزبیع اللحم بالحیوان عند ابی ابیحنیفہ وابی یوسف۔ولھماانہ باع الموزون بما لیس بموزون، لان الحیوان لا یوزن عادۃ۔ولا یمکن معرفۃ ثقلہ بالوزن الخ
(📚ھدایہ ج3 باب الربا. ص66-67 مجلس برکات مبارکپور)
(📚فتح القدیر میں ہے :
وانماقلنا ان الحیوان لیس بموزون(لانہ لا یوزن عادۃ) فلیس فیہ احدالمقدرین الشرعیین الوزن والکیل، لان الحیوان لا یعرف قدر ثقلہ بالوزن لانہ یثقل نفسہ ویخففھا فلا یدری؛
(📚فتح القدیر ج7ص26 ۔گجرات)
ھدایہ ہی میں ہے :
وکل شءی نص رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علی تحریم التفاضل کیلا فھو مکیل ابدا وان ترک الناس الکیل فیہ ۔۔۔۔۔۔وما لم ینص علیہ فھو محمول علی عادات الناس لانھا دالۃ
وعن ابی یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ انہ یعتبر العرف علی خلاف المنصوص علیہ ایضا لان النص علی ذالک لمکان العادۃ فکانت ھی المنظورۃ الیھا۔
(📚ھدایہ ج3ص64)
(📚فتح القدیر میں ہے :
(ومالم ینص علیہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  فھو محمول علی عادات الناس) فی الاسواق(لانھا) ای العادۃ(دلالۃ) علی الجواز فیما وقعت علیہ ۔لقولہ صل اللہ علیہ وسلم "مارآہ المسلمون حسنا"الحدیث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لان العرف بمنزلۃ الاجماع عند عدم النص۔
(📚فتح القدیر ج7ص15)
(📚ایضا فی (ردالمحتار ج7ص310)
فتاوی رضویہ میں ہے :
فاءیدہ چار چیزوں کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کیلی فرمایا ہے ۔گیہوں، جو، چھوہارے، نمک، یہ چاروں ہمیشہ کیلی رہیں گی اگر چہ لوگ انہیں وزن سے بیچنے لگیں۔تو اب اگر گیہوں  کے بدلے گیہوں برابر تول گر بیچے تو حرام ہو گا بلکہ  ناپ کر برابر کرنا چاہئے اور دو کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وزنی فرمایا ہے ۔سونا ۔چاندی۔یہ ہمیشہ وزنی رہیں گے ۔
ان چیزوں کے سوا، بناے کار عرف وعادت پر ہے
جو چیز عرف میں  تل کر بکتی ہے وہ وزنی ہے اور جو گزوں یا گنتی سے بکتی ہے وہ وہ اندازہ سے خارج۔
(فتاوی رضویہ ج7ص80 باب الربا۔رضااکیڈمی)
ان تصریحات سے ظاہر ہے کہ جانوروں کی بیع کا عرف اگر وزن سے  بھی ہے تو  بیع بھی جاءیز اور قربانی بھی ۔
کم من حکم یختلف باختلاف الزمان ۔
ھذا ماظھر لی والعلم بالحق عند ربی
ا___🔸💠🔸__
کتبــــہ؛:
حضرت علامہ مفتی محمد انور نظامی مصباحی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نائب قاضی ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ؛
7ذی الحجۃالحرام1439
19اگست2018؛
❣الحقلةالعلمیہ گروپ؛❣
رابطہ؛📞9934137121)
ا___🔹💠🔹__
المشتـــــہر؛
منجانب؛الحــــلقةالعــــلمیہ گروپ؛محمدعقیــــل احمد قــــادری حنفی احمد آباد گجرات انڈیا؛
ا___🔹💠🔹__
مکمل تحریر >>

ہم اور ہمارے زوال کے اسباب













ہم اور ہمارے زوال کے اسباب
از:محمدابوہریرہ رضوی مصباحی پھول سراے. رام گڑھ. (رکن مجلس علماے جھارکھنڈ)

امت مسلمہ تقریباً اپنی تاریخ کا ڈیڑھ ہزار سال سفر طے کر چکی ہے. اس دوران بہت سے حالات و حوادث سے گزری، اچھے برے تجربات سے دوچار ہوئی، بہت سے اخلاقی و تاریخی عوامل اس پر اثر انداز ہوئے. عروج و زوال کے عبرت ناک حالات بھی پیش آئے. اس گزرے ماہ و سال کا ابتدائی ہزارہ عروج و اقبال سے روشن ہے، جبکہ دوسرا ہزارہ جو گیارہویں صدی ہجری سے شروع ہوتا ہے، وہ آلام و مصائب، مظلومی و بےبسی، شقاوت و بےرحمی کے اندھیروں میں روپوش ہے. پتہ نہیں بےیقینی کے یہ اندھیرے کب تک اس ملت پر مسلط رہیں گے اور اس کی تہذیبی صبح کب روشن ہوگی.
کسی قوم پر نہ بے وجہ زوال آتا ہے اور نہ بےسبب قوم سرفراز ہوتی ہے. اسباب کی اس دنیا میں عدل و اصول ہر قوم کے لیے یکساں ہے. اقوام عالم کے عروج و اقبال اور ناکامی و زوال کا سبب ہمیشہ داخلی و اخلاقی ہوتا ہے، خارجی فتنے، بیرونی اسباب ومحرکات، ان کی کمزوری وبے راہ روی کا صرف نتیجہء بدہوتے ہیں.
جب کسی قوم پر زوال آتا ہے تو سب سے پہلے اس کے درمیان وہ اصول، اقدار اور عقائد وجہ انتشار بنتے ہیں، جو ان کی قوت کا سر چشمہ، ان کی اجتماعیت کا قوام اور ان کے اتحاد و مرکزیت کا سبب ہوتے ہیں. پھرتو ایساہوتاہے کہ اس کے افکار و عقائد، اس کے افعال و اعمال، اس کے دینی و تہذیبی مظاہر ایسے روایتی، فرسودہ، تخریبی وتباہ کن ہوجاتے ہیں کہ خیر کے تمام سوتے خشک ہوجاتے ہیں،اور جب اس سے بھلائی کی کوئی امید باقی نہیں رہتی، اس کی اصلاح کا کوئی امکان نہیں رہتا، اس کی تہذیب کی کوکھ جب بانجھ ہوجاتی ہے تو قانون فطرت کے مطابق اس کی ایک دشمن طاقت اٹھتی ہے اور فنا کا پیغام بن کر اس کی بساط کو لپ دیتی ہے. اس طرح اس کا وجود کش مکش و مسابقت کی اس دنیا سے ختم کر دیا جاتا ہے. قوم نوح، عاد و ثمود، مسدوم و وعمورہ، بابل و نینوا، یونان و روم، قیصر و کسریٰ اور یہود ونصاریٰ کی تاریخوں میں اس کی مثال دیکھی جاسکتی ہیں.
آج کے حالات پر غور کریں تو ہمارے تعلیمی، فکری و اعتقادی، عملی، تہذیبی و اخلاقی، سماجی، اتحادی ومعاشراتی، سیاسی و معاشی پسماندگی جیسے زوال کے مضبوط عوامل نے ہمیں ترقیاتی دوڑ سے بہت پیچھے کر کےآج ذلت و مفلسی اور اجنبیت کے مقام پر لا کھڑا کیا ہے.
ذیل کے سطور میں ان میں سے کچھ پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے :

*تعیلمی زوال* آج کے حالات کو دیکھ کر خون کے آنسو رونا آتا ہے. افسوس ہم نے علم سے رشتہ منقطع کر لیا ہے ہمارے اندر تحصیل علم کی دل چسپی ختم ہوتی جارہی ہے، پسماندہ قوم میں ہمارا شمار ہونے لگا ہے اور تعلمی پسماندگی میں ہم سب سے آگے ہیں. ہم نے دنیا کو علم دیا تھا، مگر اس دولت سے ہم خود محروم ہوتے جارہے ہیں. جبکہ انگریزوں نے ہمارے ہی کتابوں سے مستفید ہو کرترقی و خوشحالی کی راہیں ہموار کرلیں، ہماری وراثت عظمیٰ پر وہ قابض ہو گئے اور ہم سے ہمارا علم چھن گیا. آج مسلمانوں کی اکثریت غیر تعلیم یافتہ ہے جس کے باعث آج ہم ہرطرف دھتکارے جارہے ہیں. صنعت و حرفت ہرمیدان میں ہماری  حیثیت صفر ہے، غربت و بے کسی کے شکار ہو کر ہم ہر طرف سے دھکے کھا رہے ہیں، جس کا واحد علاج تعلیم ہے، خدا کا شکر ہے کہ اب کچھ تعلیمی بیداری ہم میں آئی ہے. 
*معاشی زوال* معیشت کی اہمیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قول و فعل سے عیاں ہے. تجارت جو معاشی ترقی و خوش حالی کی ضامن ہے، رسول اللہ صلی علیہ وسلم کا محبوب ترین پیشہ ہے آپ بذات خود ایک کامیاب تاجر تھے.
 مسلمان پندرہ صدی عیسوی تک دینا کے معاشی، سیاسی، علمی اور تہذیبی قائد رہے، بڑے بڑے تجارتی مراکز قائم کیے، سمندری تجارت کے لیے بندرگاہیں بنائیں جن کے ذریعے دور دراز کے ملکوں میں جاکر تجارت کے ساتھ ساتھ اسلام سے بھی لوگوں کو متعارف کرایا. لیکن مسلمانوں کے علمی، معاشی وسیاسی غلبے میں انحطاط سترہویں صدی کے اوائل سے شروع ہو گیا اور تقریباً دو صدیوں میں مغرب نے بڑی سرعت سے سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں ترقی کی، جس کے باعث ان کی عسکری نے مسلمانوں کے عسکری قوت سے فوقیت حاصل کرلی، اور 1798ء میں جب نپولین نے مصر فتح کیا تھا تب سے لے کر آج تک مسلمانوں کی ہر میدان میں پسپائی ہوتی رہی جو وقت کے ساتھ اور تیز ہوتی گئی. یوں تو آج دنیا میں ایک چوتھائی آبادی مسلمانوں کی ہے، ان کے پچاس سے زیادہ ممالک ہیں، اور گزشتہ نصف صدی کے عرصے میں عرب ممالک کو اللہ تعالیٰ نے زمین سے تیل کا خزانہ دے کر مالا مال کیا ہے. لیکن کوئی بھی مسلم ملک اس تیل کی دولت کے باوجود حقیقی طور پر خود مختار نہ ہو سکا. یہ ممالک بالواسطہ یا بلا واسطہ مغربی طاقتوں کے حکم و اشارے پر کام کر تے ہیں.
اس وقت امت مسلمہ کا بڑا طبقہ غربت و افلاس، ناداری وبے روزگاری کا شکار ہے، خاص طور پر ہندوستانی مسلمانوں کی شناخت معاشی پس ماندگی میں کی گئی ہے. ہم میں مالدار طبقہ بھی موجود ہے مگر اس کا تناسب تھوڑا ہے. اور غیر مسلموں کے مقابلے میں ناقابل ذکر ہے. وطن عزیز میں ایک لاکھ سے زیادہ ارب پتی لوگ ہیں مگر ان میں مسلمان صرف چند ہیں. مسلمانوں کی اکثریت نادارہے اور بہت سے لوگ خط افلاس سے نیچے کی زندگی گزار رہے ہیں. ان کی فی کس یومیہ آمدنی اوسط سے کافی کم ہے، فٹ پاتھ پر سونے والو، کوڑا چننے والوں، گلیوں اور مسجدوں کی سیڑھیوں پر دست سوال دراز کرنے والوں کے اکثریت مسلمانوں پر مشتمل ہے. اس غربت کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ جہاں زندگی گزارنا دشوار ہو وہاں تعلیم و ترقی کا خواب دیکھنا نا ممکن ہے.
مسلمانوں کو غربت و افلاس کے دلدل سے نکالنے کے لیے نہ تو حکومت ہند نے کوئی مثبت اقدام کیا نہ مسلم رہنماؤں نے سنجیدہ مہم چلائی اور نہ ہی اہل علم نے عام مسلمانوں کا مزاج خود کفالت کا بنایا، نتیجہ یہ ہوا کہ بھیک مانگنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد مسلمانوں میں موجود ہے.
اس صورت حال کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے کہ صحت اور جوانی کی نعمت ہونے کے باوجود بہت سے لوگوں نے گداگری ہی کو اپناپیشہ بنالیا ہے.
*سیاسی زوال*
 ہندوستان کے آزاد ہونے کے بعد ہی مسلمانوں کی کوئی حکمت علمی نہ بن سکی، تقسیم ہند کے نتیجے میں مسلمانوں کے ایک طبقے نے چوں کہ اسلام کے نام پر ایک آزاد مملکت حاصل کرلی تھی، اس لیے ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کی ملکی سیاست میں بڑی کم حصہ داری اور عموماً غیر مسلموں کے ہاتھ میں رہی، اور اقتدار میں دور رہنے کی وجہ سے مسلمانوں کا سیاسی شعور کم ہوتا گیا. تو جس طرح ہر سطح پر مسلمان بکھرتے رہے اس سطح پر بھی بکھرتے نظر آئے. مسلمانانِ ہند کی کوئی سیاسی جماعت وجود میں نہ آئی، نہ کوئی سیاسی پلیٹ فارم بن سکاکہ مسلمان اپنا وجود ثابت کر سکے.
ایک زمانہ تھا جب علماے کرام ملکی سیاست کو شجر ممنوعہ سمجھتے تھے.
موجودہ دور میں سیاست حاضرہ سے اپنا دامن بچائے رکھنا اور بالکل اپنے آپ کو اس سے الگ رکھنا مسلمانوں کے حق میں مفید نہیں، مقام غور ہے کہ بہت سارے غیر اہم مقامات میں مجبوراً ہم کو غیر مسلم سیاست دانوں کا سہارا لینا پڑتا ہے. یہ سیاست سے دور رہنے کا ہی نتیجہ ہے کہ علما کے بارے میں عوام یہ کہتے نظر آتی ہے کہ مولوی حضرات کو سیاست سے کیا تعلق؟ بھلا یہ سیاست کیا جانیں؟ ان کی جگہ توصرف مسجد اور مدرسہ کی چہار دیواری ہے، اس کی صاف وجہ یہ ہے کہ علما نے اپنے کو مکمل سیاست سے دور رکھا ہے، حالاں کہ علما سے بہتر سیاست کون کرسکتا ہے.
یقیناً آج کی سیاست گندی ہوگئ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اچھے لوگوں نے سیاست سے ہاتھ کھینچ لیا ہے. آج برائی دھیرے دھیرے اچھائی پر غالب ہونے لگی. ہم انصاف کا رونا روتے ہیں، ظلم اور حق تلفی کا راگ الاپتے ہیں، لیکن جب اسے سدھارنے کا موقع ملتا ہے تو ہم اپنے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں. ہم اس بات میں دلچسپی کیوں نہیں لیتے کہ آخر ہمارے سیاسی اور سماجی معاملات کو طے کرنے والے لوگ کون ہوں گے، اقتدار کی کرسی پر کسے بٹھایا جائے جو سماج کو ایک نظریے سے دیکھے. اسمبلی اور پارلیمنٹ میں کسے بھیجا جائے، جو پوری ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ ہمارے مسائل کو رکھے اور اس پر مثبت بحث کرکے مشکلات کا حل نکالے.
علما کو جان بوجھ کر سیاست سے دور کیا گیا ہے تاکہ من مانی اور بدعنوانی کے راستے کھولے جاسکیں. علما سے یہ کہا گیا کہ آپ حضرات کے لیے یہ مناسب نہیں کہ آپ دینی علوم کے وارث ہیں اور گلی گلی کھومتے آپ کو زیب نہیں دیتا، آپ تو آرام فرمائیں، ہم سب آپ کے لیے اسٹیج سجاتے ہیں، پھر یہ کہ اس میں کتنا جھوٹ بولنا پڑتا ہے اور آپ مذہبی آدمی ہیں یہ آپ کے لیے مناسب نہیں،ہم خود آپ کے پاس آکر معاملات میں رائے لےلیں گے. اس طرح کی باتوں سے انھیں ایک اہم ذمہ داری سے سبکدوش کردیا گیا اور علما کی عدم شمولیت نے سیاست کا ماحول سخت پرا گندہ کرڈالا..
مکمل تحریر >>

ہفتہ، 18 جولائی، 2020

قربانی صرف تین دن



*قربانی صرف تین دن* 

از قلم :غلام ربانی مصباحی  
دائرۃ القلم کٹگھرا, ہزاری باغ 
رکن :مجلس علماے جھارکھنڈ
ghulamrabbanimisbahi786@gmail.com


    دین اسلام میں کئی ایک اہم اور مہتم بالشان عبادتیں  ہیں مثلاً: نماز، روزہ، حج، اور قربانی وغیرہ۔ ان تمام عبادتوں کو اوقات متعینہ کے ساتھ  مربوط کیا گیا ہے تا کہ بندہ مومن اسے وقت پہ ادا کریں۔ہاں! اگر وہ وقت کے بعد ادا نہ کی جائیں گی تو قضا کہلائیں گی ۔
     نماز کے بارے میں وقت سے متعلق قرآن میں آیا  ہے              
کہ "نماز مومنوں پر الگ الگ وقت میں فرض ہے" ۔یعنی 
 پنج وقتہ نماز میں سے ہر ایک کا وقت مقرر ہے ۔
حج کے بارے میں فرمایا گیا: " حج کے لیے معلوم اور متعین مہینے ہیں" ۔
اسی طرح قربانی کے بارے میں  حدیث میں ہےکہ :" جس نے نماز عید الاضحی سے پہلے قربانی کی وہ اس کی جگہ دوسری قربانی کرے" ۔
روزے سے متعلق  قرآن کا ارشاد ہے: " رات تک یعنی سورج ڈوبنے تک روزہ پورا کرو" ۔


      غرض کے ان عبادتوں کو وقت کے ساتھ اس طرح مربوط اور مشروط کردیا گیا ہے کہ ٫٫اذ وجد وجد٬انتفی انتفی،، والی صورت پیدا ہوگئی ہے۔اگر یہ عبادتیں وقت سے پہلے ادا کی جائیں تو سرے سے عبادت درست ہوگی ہی نہی اور وقت گزر جانے کے بعد یہ عبادت انجام دی جائیں تو ان کی  معنویت اور چاشنی ہی ختم ہو جائے گی۔نیز وقت گزر جانے کے بعد یہ عبادت ادا کے بجائے قضا  کہلائیں گی اور قضا موجب عتاب ہے ۔تو اس سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اسلامی عبادات کی ادائیگی میں وقت کی پابندی بہرحال ضروری ہے۔قربانی بھی انہیں عبادتوں میں سے ایک ہے جس میں وقت کی رعایت اور پابندی ضروری ہے۔قربانی کے اجر و ثواب اور اس عمل کے محبوب مستحسن ہونے میں کسی کا اختلاف نہیں،ہاں قربانی کا وقت کب سے کب تک ہے؟ اور قربانی کتنے دنوں تک جائز ہے؟ اس مسئلہ میں ائمہ کرام کا اختلاف ہے۔ 


امام شافعی کے علاوہ امام اعظم ابو حنیفہ، امام مالک اور امام احمد بن حنبل کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قربانی صرف تین دن تک جائز ہے۔یعنی 10/تا 12 ذی الحجہ/اور 13ذی الحجہ کو قربانی جائز نہیں۔ان ائمہ ثلاثہ کے علاوہ صحابہ کرام میں حضرت عمر بن خطاب، حضرت علی، حضرت عبداللہ بن عمر، حضرت انس، حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم کا بھی یہی مسلک ہے کہ قربانی صرف تین دن تک جائز ہے۔ البتہ امام شافعی کا اختلاف ہے وہ چار دن تک قربانی کے قائل ہیں اور کہتے ہیں کہ عید الاضحی کے بعد تیسرے دن بھی قربانی ہو سکتی ہے۔
امام نووی فرماتے ہیں : وأما اخر وقت التضحیۃ فقال الشافعی :تجوز فی یوم النحر و أیام التشریق الثلاثۃ بعدہ... وقال ابو حنیفۃ و مالک واحد : تخص بیوم النحر و یومین بعدہ وروی ھذا عن عمر بن الخطاب و علی و ابن انس رضی اللہ عنھم . (حوالہ: قربانی صرف تین دن , ص:31,32)


امام نووی نے تین دن قربانی سے متعلق چار صحابہ کرام کا ذکر فرمایا ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ چار نہیں بلکہ 6صحابہ کرام سے روایت منقول ہے کہ ایام قربانی صرف تین دن ہے  ان4  جلیل القدر صحابہ کرام کا ذکر  تو امام نووی نے خود کیا ہے باقی دو صحابی جن سے تین دن  کی روایت ثابت  ہے وہ رئیس الحفاظ حضرت ابو ہریرہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ہیں ۔


علامہ ابن قدامہ حنبلی نے صحابہ کرام میں سے حضرت عمر، علی، ابو ہریرہ، ابن عباس، ابن عمر اور انس رضی اللہ عنہ کے متعلق لکھا ہے کہ 10 ذی الحجہ اور اس کے بعد صرف دو دن قربانی جائز ہونے میں ان حضرات کا بھی یہی نظریہ ہے۔ (حوالہ: قربانی صرف تین دن،ص:32)


صرف تین دن تک قربانی جائز ماننے والے صحابہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بھی ہیں چنانچہ علامہ عینی نے صاحب استذکار کے حوالے سے لکھا ہے کہ عبداللہ ابن مسعود نے فرمایا قربانی کا وقت  تین دن ہے۔(حوالہ: ایضا:ص33)


صرف تین دن تک قربانی جائز ہونے کا نظریہ،صرف امام اعظم،امام مالک اور امام احمد بن حنبل ہی کا نہیں  بلکہ 7 جلیل القدر صحابہ کرام کا بھی یہی نظریہ ہے  تو اب یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ ان صحابہ کرام نے محض اپنی رائے یا طبیعت سے یہ نظریہ قائم نہیں فرمائی بلکہ انہوں نے یہ سنا ہے یا پھر حضور کو اس پر عمل کرتے دیکھا ہے حضرت عمر اور حضرت علی جیسے عظیم المرتب دین کے مقابلے میں جو غایت درجہ احتیاط فرماتے تھے وہ کوئی چھپی بات نہیں ۔


لہذا ان سات صحابہ کرام کے اس مقدس یعنی تین دن قربانی جائز ہونے کو معنا سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال کذا أو رایتہ فعل کذا "کی منزل میں اتار لیا جائے گا.اور جب کوئی صحابی کہے کہ" میں نے حضور سے فنا بعد سنی یا حضور کو فلاں بات سنی یا حضور کو فلاں کام کرتے دیکھا" تو محدثین کے نزدیک یہ قول بالاتفاق معتبر ہے.


 مذکورہ تمام باتوں سے ثابت ہو گئی کہ قربانی صرف تین دن ہے لہذا اب اگر کوئی اس کا انکار کرے اس کے بارے میں یہی کہا جائے گا کہ اس کے عقل پر پردہ پڑ گیا ہے.
مکمل تحریر >>