منگل، 21 جولائی، 2020
تازہ حالات پر دردِ دل
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
محمد ابوذر غفاری چشتی مصباحی
متعلم: الجامعۃ الاشرفیہ، مبارک پور، اعظم گڑھ (یو۔ پی)
شاید
کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
یہ ایک
ناقابل انکار حقیقت ہے کہ آیات قرآنیہ و احادیث نبویہ میں جابجا علما کی فضیلتیں
بیان کی گئی ہیں اور امت مسلمہ کو ان کا ادب کرنے اور ان کے ساتھ تواضع سے پیش آنے
کی تلقین کی گئی ہے۔ لیکن دور حاضر میں جس طریقے سے علما کی ناقدری اور ان کے ساتھ
غیر منصفانہ سلوک کیا جارہا ہے وہ قابل تشویش ہے۔
حالیہ
کچھ دنوں میں متعدد ایسی شخصیات میری نظر سے گزریں، جنہوں نے اپنا خون جگر پلاکر
مدارس اسلامیہ کو پروان چڑھایا تھا، اپنی بیس پچیس سالہ انتھک کوششوں سے
چمنستانہاے علم و ادب میں رنگ برنگ پھول کھلائے تھے۔ لیکن کچھ مفاد پرست لوگوں نے
ان چمنستانوں سے اصل باغبانوں کو ہٹا کر ایسے نااہلوں کو ان کا مالی بنا دیا جن سے
ان چمنستانوں کی صحیح طور سے آبیاری نہ ہو سکی، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان
چمنستانہاے علم و ادب میں زوال کا سلسلہ شروع ہو گیا، کھلے ہوئے پھول مرجھانے لگے،
شاخیں خشک ہونے لگیں، تنا کمزور ہونے لگا، پتے جھڑنے لگے، ہریالی ختم ہونے لگی،
یہاں تک کہ وہ اجڑے ہوئے چمن بن کر رہ گئے۔ اسی طرح سے کتنے ایسے مدارس ہیں جو
علوم اسلامیہ کے عظیم قلعے کہلاتے تھے، مگر جب ان کے مخلص علما کی خدمات فراموش
کردی گئیں، چھوٹی چھوٹی باتوں پر گرفت کرکے انہیں نکالا گیا، حتیٰ کہ اساتذہ کا
اپنے طلبہ سے خدمت لینے کو بھی جرم قرار دیا گیا اور جاہلوں کو ان کا ہم منصب
بنایا گیا تو وہ قلعے زمیں بوس ہوگئے۔ پھر کیا ہوا؟ یہی کہ وہاں کا علمی ماحول ختم
ہوگیا، اساتذہ کے اندر تدریس کا جذبہ نہ رہا، طلبہ کا ذوق مطالعہ ختم ہوگیا،
"قال قال رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم "کی صدائیں بند ہوگئیں، اب
وہ محض آسائش گاہ بن کر رہ گئے اور دارالعلم سے دارالجہالہ میں تبدیل ہوگئے۔
اسی
طریقے سے مساجد کے حالات پر ایک طائرانہ نظر ڈالیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں
ہوجائے گی کہ عصر حاضر میں ائمۂ مساجد کو کن چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اور
ان کے ساتھ کیسا نازیبا سلوک کیا جارہا ہے۔ لوگ بجاے ائمۂ کرام کی تعظیم و توقیر
کے، انھیں تنقیدوں کا نشانہ بنانے میں مصروف ہیں۔ چھوٹے سے چھوٹا بچہ بھی ان پر
انگلی اٹھاتا ہوا نظر آتا ہے، جاھل سے جاھل شخص بھی ان پر فتوی بازی کرتا ہوا
دکھائی پڑتا ہے، ذلیل سے ذلیل تر انسان بھی ان پر زبان درازی کرنے سے باز نہیں
آتا، الغرض ائمہ کی ہر ادا جرم قرار پاتی ہے، ان کی نگاہیں نیچی ہوں تو جرم، اونچی
ہوں تو جرم، آگے نظر کریں تو مجرم، پیچھے مڑ کر دیکھیں تو مجرم۔ مگر افسوس صد افسوس کہ لوگ جتنی گہری نظر
اماموں کے احوال پر رکھتے ہیں اگر اتنی ہی گہری نظر اپنے گھر کے بچوں پر رکھتے تو
ان کے بچے اوصاف حمیدہ و اخلاق حسنہ کے پیکر بن جاتے۔ لیکن انھوں نے اپنی تمام تر
توجہ ائمۂ کرام کی نکتہ چینی میں لگا دی اور ان کی تنقید و تنقیص کو اپنا مقصد
اصلی بنالیا، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے بچے کسی قابل نہ بن سکے اور انھیں دربدر
کی ٹھوکریں کھانی پڑیں۔
میں
پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا وہ لوگ بالکل بے حس ہو چکے ہیں؟ کیا ان کی عقلوں پر پردے
پڑ گئے ہیں؟ کیا ان کا ضمیر ایسی حرکتوں پر انھیں ملامت نہیں کرتا؟ کیا ان کے دلوں
سے غیرت ایمانی ختم ہو چکی ہے؟ کیا آئمہ کرام کے تئیں ان کے سینوں میں ادب و
احترام کی بو تک باقی نہیں رہ گئی ہے؟ ارے وہ ہستی کہ جسے نماز جیسی اہم عبادت میں
اپنا امام تسلیم کیا، وہ ہستی کہ ہر چھوٹے بڑے مسائل میں جس کی طرف رجوع کیا، وہ
ہستی کہ جس نے بچوں کے سینوں میں اسلامی تعلیمات کا چراغ روشن کیا؟ وہ ہستی کہ جس
نے مسجد کی تعمیر و ترقی کے لیے چلچلاتی دھوپ میں دور دراز مقامات کا دورہ کرکے
رقوم اکٹھا کیے، وہ ہستی کہ جس کی ذمہ داری فقط امامت تھی، مگر لوگوں کی دل جوئی
کی خاطر نکاح خوانی، میلاد خوانی، عقیقہ، تجہیز و تکفین، نماز جنازہ، نومولود بچے
کے کانوں میں اذان و تکبیر جیسے دسیوں کام اپنے سر لے لیے، وہ ہستی کہ جس کی ضرورت
مہد سے لے کر لحد تک ہر انسان کو ہے۔ مگر اس ہستی سے ذرا سی لغزش سرزد کیا ہوئی،
مذکورہ سارے احسانات یکسر فراموش کر دیے گئے، چوں طرفہ مذمت شروع ہوگئی، طعن و
تشنیع کا بازار گرم ہوگیا، زبانوں پر سب و شتم کے الفاظ جاری ہو گئے، دلوں کی
بھڑاس نکالی جانے لگی۔ کئی ایسی مساجد جن کا شمار اہل سنت کے مراکز میں ہوا کرتا
تھا، لیکن وہاں کے ائمۂ کرام کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا، جس کی وجہ سے دین کے ان
عظیم سپاہیوں کو وہ مسجدیں چھوڑنی پڑیں اور ان کی جگہ دوسرے ائمہ کا تقرر ہوا،
لیکن بات اس پر ختم نہیں ہوئی، ابھی چند دن گزرنے بھی نہ پائے تھے کہ انھیں بھی
نکال دیا گیا، اس طرح سے اماموں کا تبادلہ ہوتا رہا، یہاں تک کہ مفت امامت کا
لبادہ اوڑھ کر کچھ لوگ نمودار ہوئے اور اپنے باطل عقائد و نظریات کی خفیہ تبلیغ کر
کےعقائد اہل سنت کے تئیں عوام کے دلوں میں شکوک و شبہات پیدا کردیے۔ نتیجتاً کچھ
ہی دنوں میں وہاں کے باشندگان ان کے دام فریب میں آ کر اپنے ایمان سے ہاتھ دھو
بیٹھے اور وہ مسجدیں ان بد عقیدوں کے قبضے میں چلی گئیں۔ العیاذ باللہ۔ بربادی کا
یہ پہلا رخ تھا۔
اس کا دوسرا رخ یہ کہ آئے دن اماموں کی تبدیلی اور نا قدری سے نالاں ہو کر علما کے ایک بڑے طبقے نے خود کو منصب امامت سے جدا کر لیا۔ موقع پاکر چاپلوس قسم کے نام نہاد مولویوں نے ان جگہوں پر قبضہ جما لیا، جس کی بنا پر عقائد اہلسنت کی غلط تشہیر ہونے لگی، تقریروں میں من گھڑت واقعات بیان کیے جانے لگے، اپنے خیالات کے مطابق مسائل کے اختراع کا سلسلہ شروع ہو گیا، حق گوئی کا نام و نشان مٹ گیا، چند ٹکے کے یہ مولوی مالداروں کی غلامی میں آگئے الا ماشاء اللہ ۔ جس کے نتیجے میں ان مساجد سے دین و سنت کی اشاعت کماحقہٗ نہ ہو
سکی اور لوگ اسلامی تعلیمات سے عاری اور
جذبۂ عمل سے خالی ہو کر رہ گئے۔
سچ
فرمایا تھا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے:
إن
الله لايقبض العلم انتزاعا ينتزعه من العباد، ولكن يقبض العلم بقبض العلماء حتى
إذا لم يبق عالم اتخذ الناس رؤوسا جهالا، فسئلوا فأفتوا بغير علم فضلوا و أضلوا.
ترجمہ:
اللہ تعالی علم کو اس طرح قبض نہیں کرے گا کہ لوگوں کے سینوں سے جدا کرلے، بلکہ
علم کا قبض کرنا علما کے قبض کرنے سے ہوگا، جب عالم باقی نہ رہیں گے جاہلوں کو لوگ
سردار بنا لیں گے۔ وہ بغیر علم کے فتوی دیں گے، خود بھی گم راہ ہوں گے اور دوسروں
کو بھی گم راہ کریں گے۔ (صحیح بخاری، کتاب العلم، ج:۱، ص:۵۴)
نیز
آپ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم نے فرمایا:
"علما کی مثال یہ ہے جیسے آسمان میں ستارے، جن سے خشکی اور
سمندر کی تاریکیوں میں راستے کا پتا چلتا ہے۔ اور اگر ستارے مٹ جائیں تو راستہ
چلنے والے بھٹک جائیں گے۔"(مسند امام احمد بن حنبل، ج:۴، ص:۳۱۴)
کاش!
اگر منتظمین مدارس اور متولیان مساجد علما و ائمہ کی ناقدری نہ کرتے، ان کی خدمات
یک لخت بھلا نہ دیتے اور ناقابل گرفت غلطیوں پر ان کا اخراج نہ کرتے تو آج مدارس
اسلامیہ و مساجد دینیہ کی زبوں حالی دیکھنے کو نہ ملتی۔ اللہ تعالی ہم سب کو علما
کا ادب اور ان کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
پیر، 20 جولائی، 2020
مختصر سیرتِ ابن ہشام ____مطالعاتی میز پر
اتوار، 19 جولائی، 2020
قربانی اور اس کے اہم مسائل
وزن سےجانورخریدنا بوجہ عرف جائز
وزن سےجانورخریدنا بوجہ عرف جائز
ہم اور ہمارے زوال کے اسباب
ہفتہ، 18 جولائی، 2020
قربانی صرف تین دن
علما کی سیاست سے دوری اور امت کے مشکلات
![]() |
قربانی کے فضائل و مسائل
صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے - نقد نہیں ہےتو قرض لے کر یا کچھ مال بیچے .
صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے - نقد نہیں ہےتو قرض لے کر یا کچھ مال بیچے .السلام علیکم ورحمۃ اللہ تعالیٰ وبرکاتہ کیا زیدصاحب نصاب ہےبتحت مجبوری سوناگروی رکھکر قربانی کریگا یا واجب نہیں جبکہ صاحب نصاب ہے مگر فی الحال مجبوری ہے تو کیا فرماتے ہیں علماۓ کرام زید کیلئیے کیا حکم شرع ہوگا قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں*🔸محمد عبد الجلیل اشرفی🔸*____________________________________*📝الجواب بعون الملک الوہاب*صاحب نصاب پر قربانی واجب ہے۔نقد نہیں ہے،تو قرض لے یا کچھ مال بیچے۔فتاویٰ رضویہ میں ہے:*"جس پر قربانی ہے اور اس وقت نقد اس کے پاس نہیں وہ چاہے قرض لے کر کرے یااپنا کچھ مال بیچے،**♦️"واللہ تعالٰی اعلم۔♦️**(📘فتاویٰ رضویہ کتاب الاضحیہ سوفٹ ویئر ص٢٠ج٧٠)*_____________________________________*📝کتبہ : حضرت علامہ مفتی محمد انور نظامی مصباحی صاحب قبلہ مدظلہ العالی و النورانی قاضی ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ**٢٣-ذوالقعدۃالحرام١٤٤١ھ**🕹️آپکا سوال ہمارا جواب گروپ🕹️**رابطہ نمبر 9934137121**♦️المشتہر : منتظمین♦️**آپکا سوال ہمارا جواب**📲8808819316*








