Pages

اتوار، 19 جولائی، 2020

وزن سےجانورخریدنا بوجہ عرف جائز





وزن سےجانورخریدنا بوجہ عرف جائز

سوال کیا فرماتے ہیں علماءدین اس مسئلہ میں کہ
بکرا وزن سے خریدنا جائز ہے یا نہیں؟  اس کی قربانی کاکیا حکم ہے۔؟
ا___🔸💠🔸__
الجواب بعون الملک الوھاب؛
اس زمانے میں کچھ حیوانات  مثلا بکرا بکری مرغ وغیرہ  کے بیع کا عرف دو طرح کا ہے عدد یعنی گنتی سے  بغیر وزن کے۔اور وزن سےبھی ۔
اشیاء منصوصہ،جو کیلی ہیں وہ  ہمیشہ کیلی رہیں گی  اور جو وزنی ہیں  وہ ہمیشہ  وزنی اگر چہ عرف بدل جائے ۔
ان کے سوا میں عرف وعادت کا اعتبار  ہوگا ۔جو وزن سے بکتی ہیں  وہ وزنی ہوں گی ، جو ناپ کر وہ کیلی، جو گن کر  وہ عددی اور جن اشیاء کے بیع کا دو طریقے سے  رواج ہو وہ دونوں طریقوں سے جاءیز ہوں گی۔جیسے مٹھاءییاں گن کر بیچی جاتی ہیں اور تول کر بھی ۔کیلوں کا بھی یہی معاملہ ہے ۔
یہی وجہ ہے  کہ  حیوان کے سلسلے  ميں جہاں  وزنی ہونے کا ذکر ہے اس کی وجہ فقہاء کرام  نے  عرف وعادت قرار دیا ہے ۔ھدایہ میں  ہے :
ویجوزبیع اللحم بالحیوان عند ابی ابیحنیفہ وابی یوسف۔ولھماانہ باع الموزون بما لیس بموزون، لان الحیوان لا یوزن عادۃ۔ولا یمکن معرفۃ ثقلہ بالوزن الخ
(📚ھدایہ ج3 باب الربا. ص66-67 مجلس برکات مبارکپور)
(📚فتح القدیر میں ہے :
وانماقلنا ان الحیوان لیس بموزون(لانہ لا یوزن عادۃ) فلیس فیہ احدالمقدرین الشرعیین الوزن والکیل، لان الحیوان لا یعرف قدر ثقلہ بالوزن لانہ یثقل نفسہ ویخففھا فلا یدری؛
(📚فتح القدیر ج7ص26 ۔گجرات)
ھدایہ ہی میں ہے :
وکل شءی نص رسول  اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علی تحریم التفاضل کیلا فھو مکیل ابدا وان ترک الناس الکیل فیہ ۔۔۔۔۔۔وما لم ینص علیہ فھو محمول علی عادات الناس لانھا دالۃ
وعن ابی یوسف رحمہ اللہ تعالیٰ انہ یعتبر العرف علی خلاف المنصوص علیہ ایضا لان النص علی ذالک لمکان العادۃ فکانت ھی المنظورۃ الیھا۔
(📚ھدایہ ج3ص64)
(📚فتح القدیر میں ہے :
(ومالم ینص علیہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم  فھو محمول علی عادات الناس) فی الاسواق(لانھا) ای العادۃ(دلالۃ) علی الجواز فیما وقعت علیہ ۔لقولہ صل اللہ علیہ وسلم "مارآہ المسلمون حسنا"الحدیث
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔لان العرف بمنزلۃ الاجماع عند عدم النص۔
(📚فتح القدیر ج7ص15)
(📚ایضا فی (ردالمحتار ج7ص310)
فتاوی رضویہ میں ہے :
فاءیدہ چار چیزوں کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نے کیلی فرمایا ہے ۔گیہوں، جو، چھوہارے، نمک، یہ چاروں ہمیشہ کیلی رہیں گی اگر چہ لوگ انہیں وزن سے بیچنے لگیں۔تو اب اگر گیہوں  کے بدلے گیہوں برابر تول گر بیچے تو حرام ہو گا بلکہ  ناپ کر برابر کرنا چاہئے اور دو کو حضور اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وزنی فرمایا ہے ۔سونا ۔چاندی۔یہ ہمیشہ وزنی رہیں گے ۔
ان چیزوں کے سوا، بناے کار عرف وعادت پر ہے
جو چیز عرف میں  تل کر بکتی ہے وہ وزنی ہے اور جو گزوں یا گنتی سے بکتی ہے وہ وہ اندازہ سے خارج۔
(فتاوی رضویہ ج7ص80 باب الربا۔رضااکیڈمی)
ان تصریحات سے ظاہر ہے کہ جانوروں کی بیع کا عرف اگر وزن سے  بھی ہے تو  بیع بھی جاءیز اور قربانی بھی ۔
کم من حکم یختلف باختلاف الزمان ۔
ھذا ماظھر لی والعلم بالحق عند ربی
ا___🔸💠🔸__
کتبــــہ؛:
حضرت علامہ مفتی محمد انور نظامی مصباحی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی نائب قاضی ادارہ شرعیہ جھارکھنڈ؛
7ذی الحجۃالحرام1439
19اگست2018؛
❣الحقلةالعلمیہ گروپ؛❣
رابطہ؛📞9934137121)
ا___🔹💠🔹__
المشتـــــہر؛
منجانب؛الحــــلقةالعــــلمیہ گروپ؛محمدعقیــــل احمد قــــادری حنفی احمد آباد گجرات انڈیا؛
ا___🔹💠🔹__

0 Comments:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔