*🌹قربانی اور اس کے اہم مسائل*🌹
✍🏻 *محمد وقار احمد مصباحی* (گڈاوی)
(رکن: مجلس علمائے جھارکھنڈ)
{فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ: تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔} یعنی اے حبیب! (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو دونوں جہاں کی بے شمار بھلائیاں عطا کی ہیں اور آپ کو وہ خاص رتبہ عطا کیا ہے جو آپ کے علاوہ کسی اور کو عطا نہیں کیا، تو آپ اپنے اس رب عَزَّوَجَلَّ کے لیے نماز پڑھتے رہیں جس نے آپ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کو،کوثر عطا کر کے عزت و شرافت دی، تاکہ بتوں کے پجاری ذلیل ہوں اور بتوں کے نام پر ذبح کرنے والوں کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے لیے اوراس کے نام پر قربانی کریں ۔اس آیت کی تفسیر میں ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز سے نمازِ عید مراد ہے۔( مدارک، الکوثر، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۳۷۸، خازن، الکوثر، تحت الآیۃ: ۲، ۴ / ۴۱۶-۴۱۷، ملتقطاً)
قربانی قرب الٰہی کا ایک عظیم ذریعہ ہے جب بنیت تقرب کیا جائے.
آئے حدیث شریف کی روشنی میں بھی قربانی کی فضیلت ملاحظہ کریں.
ابو داود، ترمذی و ابن ماجہ میں ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہا سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ وسلَّم نے فرمایا: کہ’’ یوم النحر (دسویں ذی الحجہ) میں ابن آدم کا کوئی عمل خدا کے نزدیک خون بہانے (قربانی کرنے) سے زیادہ پیارا نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگ اور بال اور کھروں کے ساتھ آئے گا اور قربانی کا خون زمین پر گرنے سے قبل خدا کے نزدیک مقام قبول میں پہنچ جاتا ہے.لہٰذا اس کو خوش دلی سے کرو
(جامع الترمذي‘‘،کتاب الأضاحی،باب ماجاء في فضل الأضحیۃ،الحدیث:۱۴۹۸،ج۳،ص۱۶۲)
ابن ماجہ نے حضرت زید بن ارقم رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہ صحابہ(رضی اللّٰہ تعالٰی عنہم) نے عرض کی یارسول اﷲ (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)یہ قربانیاں کیا ہیں فرمایا: کہ’’ تمھارے باپ ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے‘‘ لوگوں نے عرض کی یارسول اﷲ(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) ہمارے لیے اس میں کیا ثواب ہے فرمایا:’’ ہر بال کے مقابل نیکی ہے.
(سنن ابن ماجہ باب ثواب الأضحیۃ، الحدیث:۳۱۲۷،ص۵۳۱۔)
ابن عباس رضی اللّٰہ تعالٰی عنہماسے مروی کہ حضور(صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم)نے ارشاد فرمایا:’’ جو روپیہ عید کے دن قربانی میں خرچ کیا گیا اس سے زیادہ کوئی روپیہ پیارا نہیں.
(المعجم الکبیر‘‘،الحدیث:۱۰۸۹۴،ج۱۱،ص۱۴۔۱۵۔
*مسائل*
*قربانی کن لوگوں پر واجب ہے؟*
*مسئلہ* : قربانی واجب ہونے کے شرائط یہ ہیں: اسلام یعنی غیر مسلم پر قربانی واجب نہیں ، اقامت یعنی مقیم ہونا، مسافر پر واجب نہیں ، تونگری یعنی مالک نصاب ہونا یہاں مالداری سے مراد وہی ہے جس سے صدقۂ فطر واجب ہوتا ہے وہ مراد نہیں جس سے زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، حریت یعنی آزاد ہونا جو آزاد نہ ہو اس پر قربانی واجب نہیں کہ غلام کے پاس مال ہی نہیں، لہٰذا عبادت مالیہ اس پر واجب نہیں ۔ مرد ہونا اس کے لیے شرط نہیں. عورتوں پر واجب ہوتی ہے جس طرح مردوں پر واجب ہوتی ہے اس کے لیے بلوغ شرط ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے اور نابالغ پر واجب ہے تو آیا خود اس کے مال سے قربانی کی جائے گی یا اس کا باپ اپنے مال سے قربانی کرے گا۔ ظاہرالروایۃ میں یہ ہے کہ نہ خود نابالغ پر واجب ہے اور نہ اس کی طرف سے اس کے باپ پر واجب ہے اور اسی پر فتویٰ ہے۔(’’الدرالمختار‘‘،کتاب الأضحیۃ،ج۹،ص۵۲۴، بہار شریعت وغیرہ)
*مسئلہ:* جو شخص دو سو درہم یا بیس دینار کا مالک ہو یا حاجت کے سوا کسی ایسی چیز کا مالک ہو جس کی قیمت دوسو درہم ہو وہ غنی ہے اوس پر قربانی واجب ہے۔ حاجت سے مراد رہنے کا مکان اور خانہ داری کے سامان جن کی حاجت ہو اور سواری کا جانور اور خادم اور پہننے کے کپڑے ان کے سوا جو چیزیں ہوں وہ حاجت سے زائد ہیں ۔ (عالمگیری، بہار شریعت وغیرہ)
*مسئلہ:* عورت کامَہر شوہر کے ذمہ باقی ہے اور شوہر مالدار ہے تو اس مَہر کی وجہ سے عورت کو مالک نصاب نہیں ماناجائے گا اگرچہ مَہر معجل ہو اور اگر عورت کے پاس اس کے سوا بقدر نصاب مال نہیں ہے تو عورت پر قربانی واجب نہیں ہوگی۔(عالمگیری، بہار شریعت)
*مسئلہ:* قربانی کی منت مانی اور یہ معین نہیں کیا کہ گائے کی قربانی کرے گا یا بکری کی تو منت صحیح ہے بکری کی قربانی کر دینا کافی ہے اور اگر بکری کی قربانی کی منت مانی تو اونٹ یا گائے قربانی کر دینے سے بھی منت پوری ہو جائے گی. منت کی قربانی میں سے کچھ نہ کھائے بلکہ سارا گوشت وغیرہ صدقہ کر دے اور کچھ کھا لیا تو جتنا کھایا اس کی قیمت صدقہ کرے۔(عالمگیری بہار شریعت)
*مسئلہ:* قربانی کے جانور کی عمر یہ ہونی چاہیے اونٹ پانچ سال کا گائے دو سال کی بکری ایک سال کی اس سے عمر کم ہو تو قربانی جائز نہیں زیادہ ہو تو جائز بلکہ افضل ہے۔ ہاں دنبہ یا بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ اگر اتنا بڑا ہو کہ دور سے دیکھنے میں سال بھر کا معلوم ہوتا ہو تو اس کی قربانی جائز ہے۔ (درمختار، بہار شریعت)
*مسئلہ:* قربانی کے جانور کو عیب سے خالی ہونا چاہیے اور تھوڑا سا عیب ہو تو قربانی ہو جائے گی مگر مکروہ ہوگی اور زیادہ عیب ہو تو ہوگی ہی نہیں ۔ جس کے پیدائشی سینگ نہ ہوں اس کی قربانی جائز ہے اور اگر سینگ تھے مگر ٹوٹ گیا اور مینگ تک(جڑ تک) ٹوٹا ہے تو ناجائز ہے اس سے کم ٹوٹا ہے تو جائز ہے۔ جس جانور میں جنوں ہے اگر اس حد کا ہے کہ وہ جانور چرتا بھی نہیں ہے تو اس کی قربانی ناجائز ہے اور اس حد کا نہیں ہے تو جائز ہے۔ خصی یعنی جس کے خصیے نکال لیے گئے ہیں یا مجبوب یعنی جس کے خصیے اور عضو تناسل سب کاٹ لیے گئے ہوں ان کی قربانی جائز ہے۔ اتنا بوڑھا کہ بچہ کے قابل نہ رہا یا داغا ہوا جانور یا جس کے دودھ نہ اترتا ہو ان سب کی قربانی جائز ہے۔ خارشتی جانور کی قربانی جائز ہے جبکہ فربہ ہو اور اتنا لاغر ہو کہ ہڈی میں مغز نہ رہا تو قربانی جائز نہیں ۔(درمختار، ردالمحتار، عالمگیری، بہار شریعت )
*مسئلہ:* قربانی کرتے وقت جانور اچھلا، کودا جس کی وجہ سے عیب پیدا ہوگیا یہ عیب مضر نہیں یعنی قربانی ہو جائے گی اور اگر اچھلنے کودنے سے عیب پیدا ہوگیا اور وہ چھوٹ کر بھاگ گیا اور فوراً پکڑ کر لایا گیا اور ذبح کر دیا گیا جب بھی قربانی ہو جائے گی۔ (درمختار، ردالمحتار، بہار شریعت )
*مسئلہ:* قربانی کے سب شرکا کی نیت تقَرُّب ہو اس کا یہ مطلب ہے کہ کسی کا ارادہ گوشت نہ ہو اور یہ ضروری نہیں کہ وہ تقرب ایک ہی قسم کا ہو مثلاً سب قربانی ہی کرنا چاہتے ہیں بلکہ اگر مختلف قسم کے تقرب ہوں وہ تقرب سب پر واجب ہو یا کسی پر واجب ہو اور کسی پر واجب نہ ہو ہر صورت میں قربانی جائز ہے مثلاًدَمِ اِحصار اور احرام میں شکار کرنے کی جزا اور سر منڈانے کی وجہ سے دَم واجب ہوا ہو اورتمتع و قران کادَم کہ ان سب کے ساتھ قربانی کی شرکت ہوسکتی ہے۔ اسی طرح قربانی اور عقیقہ کی بھی شرکت ہوسکتی ہے کہ عقیقہ بھی تقرب کی ایک صورت ہے۔ (ردالمحتار، بہار شریعت)
*مسئلہ:* قربانی اگر منت کی ہے تو اس کا گوشت نہ خود کھاسکتا ہے نہ اغنیا کو کھلا سکتا ہے بلکہ اس کو صدقہ کر دینا واجب ہے وہ منت ماننے والا فقیر ہو یا غنی دونوں کا ایک ہی حکم ہے کہ خود نہیں کھا سکتا ہے نہ غنی کو کھلا سکتا ہے۔(بہار شریعت)

0 Comments:
اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔